Friday, November 1, 2013

The Qura'n: The only holy book which is in its original farm.

قرآن :ہدایت کی واحد ربانی کتاب جو محفوظ ہے



آغاز کلام

قرآن ربانی ہدایت کا آخری سرچشمہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق فرمائی اور پوری کائنات میں سب سے افضل و بہتر تخلیق انسان کی شکل میں پیدا فرمائی۔عقلاکے بقول: اللہ نے انسان کو دوسرے جانداروں سے دو اوصاف کے ذریعے ممتاز فرمایا ہے۔ ایک عقل کی دولت،دوسرے زبان کی نعمت۔
روئے زمین پر چلنے والاصرف انسان ہی وہ مخلوق ہے جسے اللہ نے سوچنے کی ایسی صلاحیت بخشی ہے کہ وہ اپنے علم اور صلاحیت میں ہر دن اضافہ کر لیتا ہے ۔ وہ ہر دن نئی نئی باتیں سوچتا ہے اور نئی نئی دریافتیں سامنے لاتا ہے۔ اسی طرح انسان جس خوبی کے ساتھ لفظوں میں اپنا مقصد ظاہر کر سکتا ہے، زبان کی یہ خوبی روئے زمین کی کسی اورمخلوق کو میسر نہیں ہے۔

انسانی عقل معرفت الٰہی کا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ عقل کے اندر اللہ نے یہ خوبی رکھی ہے کہ وہ کسی بھی صنعت (Production)کو دیکھ کر صنعت کار (Producer)کی خوبیوں کا ادراک کر لیتی ہے۔ یہ کارخانۂ ہستی بھی ایک نہایت خوبصورت ،مرتب ومنظم اورخوبیوں سے پر ایک صنعت ہے۔ عقل اسے جب دیکھتی ہے تو فوراً اس کے بنانے والے کی خوبیاں اس کی نگاہوں میں پھر جاتی ہیں۔ اس کے بعدوہ نہ صرف یہ چاہتی ہے کہ خالق کے وجود اور اس کی لازوال عظمتوںکا اعتراف کرے بلکہ اس کے ساتھ وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ وہ خالق کے اوصاف کو جانے اور اس عظیم کائنات کے پیچھے اس کے تخلیقی مقصد (Creation Plan)کو سمجھے ،لیکن عقل کی مجبور ی یہ ہے کہ وہ صرف اپنے پانچ ذرائع مواصلات (دیکھنے، سننے، چکھنے، چھونے اور سونگھنے کی قوتوں) سے آنے والی معلومات کا ہی ادراک کر سکتی ہے اور ان ذرائع مواصلات میں کوئی ایک ذریعہ بھی ایسانہیں جس کا کوئی تعلق ذات خالق سے ہو ۔اس لیے عقل ایک طرف اللہ کے وجود کو ماننے پر مجبور ہے تودوسری طرف وہ اللہ کی صفات اور اس کے مقاصد اور ارادوں کو صحیح طور پر جاننے اور سمجھنے سے لاچار و عاجز محض ہے۔

انسانی عقل کی اسی مجبوری و لاچاری کے پیش نظر اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے نبوت و رسالت کا سلسلہ شروع فرمایا۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف ادوار میں لاکھوں پیغمبر آتے رہے ۔ یہ سارے پیغمبر انسان ہوتے۔اللہ تعالیٰ ان منتخب بندوں سے خود کلام فرماتا، ان پر اپنے احکام نازل فرماتا اور وہ دوسرے انسانوں تک اس پیغام کو پہنچاتے رہتے۔یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ جب دنیا میں علم عام ہو گیااور تحریری شکل میں احکام کو محفوظ رکھنے کی آسانیا ں پیدا ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری پیغمبر عرب کی سرزمین پر مبعوث فرمایا۔اس پیغمبر ختمی مرتبت علیہ الصلوٰۃ و السلام پر اپنا کلام ’’قرآن کریم‘‘ نازل فرمایا اور اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ۔ (حجر:۹)’’ہم نے ہی قرآن نازل کیااور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘ کہہ کر خود ہی اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا۔
پیغمبر آخر الزماںصلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر آج تقریباً ساڑھے چودہ سو سال کا عرصہ گزر گیا۔ اللہ کا یہ پیغام آج بھی اپنی اصل شکل و صورت میں تحریری طور پر بھی اور زبانی طور پر بھی موجود ہے۔ یہ کتاب آج کروڑوں انسانوں کے سینوں میں لفظ بلفظ محفوظ ہے اور اس کے اربوں نسخے کتابی شکل میں دنیا کے ہر حصے میں محفوظ ہیں۔ یہ اعزاز آج روئے زمین پر صرف اسی ایک کتاب کو حاصل ہے ۔ پچھلے چودہ سوبرسوں سے یہ کتاب دنیا والوں کو یہ چیلنج کرتے ہوئے آ رہی ہے :
ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ اتاراہے اگراس کے تعلق سے تمھیں شک ہوتو تم اس کے مثل ایک سورہ ہی لا کر پیش کردو۔ (بقرہ:۳۳)
یانبی!آپ کہہ دیں کہ اگر سارے انسان وجنات مل کر بھی اس قرآن کی طرح کوئی کتاب لاناچاہیںتونہیں لاسکتے۔(اسرا:۸۸)
روئے زمین پر یہ واحد کتاب ہے جو پوری نوع انسانی کی ہدایت کے لیے آواز دے رہی ہے۔(ھُدًی لِّلنَّاسِ:)اس کے ساتھ وہ اس حقیقت کا بھی اظہار کررہی ہے کہ اس سے صحیح طورپر فائدہ وہی اٹھا سکتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہے اورجوراہ حق کے طالب ہیں۔(ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ) (بقرہ:۲)
دنیامیں دوطرح کے انسان بستے ہیں۔ جدید سروے کے مطابق تقریباً ۹۲؍فیصد انسان وہ ہیں جو خالق کے وجود کا اعتراف کرتے ہیں اور۸؍فیصد وہ انسان ہیں جو اس اعتراف میں تنگ دل واقع ہوئے ہیں۔یہ وسیع کائنات بغیر خالق کے بن کرتیار ہوگئی ہے،اس نظریے کا قائل علمی اعتبارسے تمام روئے زمین پر ایک شخص بھی موجودنہیںہے؛کیونکہ یہ عقل ظاہر کے خلاف ہے۔ مگر اس کے باوجود ۸؍فیصد انسان ایسے بھی موجودہیں جو کائنات کو دیکھتے ہوئے بھی خالق کائنات کے وجود کا اعتراف نہیںکرتے۔ایسے لوگوں کو خداکا منکر (Atheist)کہا جاتا ہے۔یہ اوربات ہے کہ انھیں منکرسے زیادہ متعصب یامتشکک (Agnostic)یاغیرعلمی رویہ کا حامل کہنا زیادہ صحیح ہے۔کیونکہ ان کا انکار کسی ٹھوس بنیادپر قائم نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شخص یہ نہیں کہتا کہ: ’’اللہ نہیں ہے‘‘ بلکہ وہ صرف یہ پوچھتے ہیں کہ: ’’اللہ کہاںہے؟‘‘
اللہ کااقرار کرنے والی دنیاکی۹۲؍ فی صد آبادی مختلف ادیان ومذاہب کی پیروہے۔یہ پوری برادری خالق کائنات کے وجودکاکھلے ذہنوں کے ساتھ اعتراف کرتی ہے۔ان سب کاماننا ہے کہ ان کامذہب خدائی مذہب ہے۔خدانے انھیں زندگی کے دستوراوراصول عطاکیے ہیں جن کی بنیادوں پران کے مذہبی اصول و قوانین مرتب ہیںاوروہ انھیں کے مطابق زندگی گزارنے کے مکلف ہیں،لیکن ان سب صداقتوںکے ساتھ ایک کھلی ہوئی نہایت بے غبار صداقت یہ بھی ہے کہ اس وقت قرآن کے علاوہ دنیامیں جتنی مذہبی کتابیں ہیں نہ ان میں سے کوئی کتاب یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف سے جیسے نازل کی گئی تھی اسی طرح محفوظ ہے اورنہ علمی بنیادوں پر ان میںسے کسی مذہبی کتاب کا انتساب اس کے پیغمبرتک صحیح طور سے درست ہے۔یعنی تمام مذہبی کتابوں میں صرف قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کا خودبھی دعوی ہے اوراس کے بارے میں یہ دعوی کیا بھی جاسکتاہے کہ یہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جیسی نازل ہوئی تھی ویسی ہی تحریری طورپرمحفوظ ہے۔ یہ دعوی علمی اورتحقیقی بنیادوں پر دنیاکی کسی کتاب کے بارے میں نہیں کیاجاسکتا۔حدتویہ ہے کہ پوری دنیامیں کوئی ایک اسکالربھی ایسا نہیں جوقرآن کے علاوہ کسی دوسری کتاب کے بارے میں اس قسم کادعوی رکھتاہو،یا ایسے دعوے کودرست سمجھتاہو۔